کشمیر پالیسی

خارجہ پالیسی
موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کی خارجہ پالیسی درج ذیل خطوط پر استوار ہوگی۔
۔۔۔۔کسی بھی طاقت کی اقتصادی، ثقافتی، عسکری یا سیاسی بالادستی ہرگز قبول نہیں کی جائے گی
۔۔۔۔کسی بھی طاقت کے مفادات کی نگہداشت اور ترویج نہیں کی جائے گی اور اس حوالے سے ناوابستگی کے اصول پر سختی سے کاربند رہا جائے گا۔
۔۔۔۔ملکی مفاد کا تحفظ خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہوگا اس کے تحت
۔۔۔۔علاقائی سالمیت، ملکی سلامتی، سیاسی خود مختاری اور معاشی آزادی کے حصول اور بقاء کے لیے جدوجہد کی جائے گی۔
۔۔۔۔ دیگر ممالک سے تعلقات عدم مداخلت اور پر امن بقائے باہمی کے اصول پر مبنی ہوں گے جس کے تحت
۔۔۔۔کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی اور کسی بھی اور ملک کے جغرافیائی سرحدوں پر جارحٰت کا ارتکاب نہیں کیا جائے گا۔
۔۔۔۔تمام ممالک بالخصوص ہمسایہ ممالک سے دو طرفہ بنیادوں پر قریبی ،خوشگوار اور دوستانہ تعلقات قائم کیے جائیں گے۔
ما سوائے!
۔۔۔۔ان ممالک کے جو نسل پرستانہ، صیہونی، سامراجی اور توسیع پسندانہ عزائم کے حامل ہوں یا اسلامی دشمن اور مسلم کش پالیسی اپنائے ہوں۔
۔۔۔۔تمام مواقع پر اسلامی مفادات کو ترجیح دی جائے گی اور عالم اسلامی کے اتحاد کی کوششوں کو فروغ دیا جائے گا۔
۔۔۔۔حکومتوں سے تعلقات کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام سے قریبی رابطے قائم کیے جائیں گے ۔
خرجہ پالیسی کے ان خطوط کی روشنی میں مندرجہ ذیل اقدامات کئے جائیں گے۔
۔۔۔۔تمام تر سیاسی، اقتصادی ، عسکری اور ثقافتی نوعیت کے معاہدوں پر نظر ثانی کی جائے گی اور ایسے تمام معاہدے یا کسی بھی معاہدے کے ایسے حصے کالعدم قرار دے دیئے جائیں گے جو خارجہ پالیسی کے مذکورہ بالا بنیادی اصولوں سے متصادم ہوں گے۔
۔۔۔۔قرضوں کی شرائط پر نظر ثانی کی جائے گی۔

۔۔۔۔ایسا کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا اور نہ روبہ عمل لایا جائے گا جس کے تحت کوئی غیر ملکی طاقت ملک کے قدرتی وسائل رپ تسلط یا تصرف حاصل کرسکے۔

۔۔۔۔کسی سامراجی طاقت کو فوجی مقاصد کے لئے پاکستان کی زمین، فضا اور پانی استعمال کرنے ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔

۔۔۔۔دنیا بھر میں محروموںاور مظلوموں کی حمایت کی جائے گی اور ان سے ہر ممکن سیاسی اور اخلاقی تعاون کیا جائے گا۔

۔۔۔۔عالمی امن کے قیام اور فروغ نیز بنی نو ع انسان کی خوشحالی اور ترقی کے لئے عالمی تنظیموں اور اداروں میں موثر کردار ادا کیا جائے گا۔

۔۔۔۔ استحصال اور ظلم سے پاک ایک نئے عالمی اقتصادی اور سیاسی نظام کے لئے جدوجہد کی جائے گی۔

۔۔۔۔مختلف ممالک میں موجود مسلم اقلیتوں کے حقوق کی بحالی / تحفظ کی حمایت کی جائے گی۔

۔۔۔۔مسلم اکثریت کے وہ علاقے جو اغیار کے زیر تسط ہیں ان کی آزادی کے لئے سیاسی اور اخلاقی تعاون کیا جائے گا۔

۔۔۔۔القدس اور دیگر مقامات مقدسہ کی حرمت و آزادی کو بنیادی اہمیت دی جائے گی۔

۔۔۔۔بیرونی مداخلت یا فوج کشی کے خلاف مزاحمت میں اسلامی ممالک کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔

۔۔۔۔علاقے میں ہر قسم کی فوجی مہم جوئی یا بیرونی مداخلت کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی ۔

۔۔۔۔ پاکستان کو اس کے جغرافیائی، تاریخی اور دینی تقاضوں کی روشنی میں مغربی ایشیاء کا حصہ قرار دے کر مسلمان ممالک سے قریبی روابط کا احیاء کیا جائے گا۔

کشمیر پالیسی

تقسیم ہندوستان کے طے شدہ اصولوں کی بنیاد پر کشمیر پاکستان کا جزو لانیفک ہے۔ شروع ہی سے برطانیہ اور کانگریس کی ملی بھگت سے آزادی کشمیر کا طے شدہ مسئلہ الجھ کر رہ گیا۔ فوجی مداخلت کے ذریعے بھارت نے کانگریس کے وسیع حصے پر تسلط قائم کر لیا۔ آج بھی کشمیر کا ایک حصہ آزاد ہے مگر بیشتر حصہ بھارت کے غاصبانہ قبضے میں ہے جس کے نتیجے میں کشمیر کے مظلوم عوام ہر لحاظ سے ایک ہونے کے باوجود تقسیم ہو کر رہ گئے ہیں اور مقبوضہ کشمیر کے عوام خاص طور پر اپنی آزادی کی طویل جدوجہد میں بے پناہ قربانیاں پیش کرچکے ہیں۔

یہ مسئلہ بین الاقوامی اداروں تک پہنچا تو انہوں نے بھی اصولی طور پر پاکستان کا موقف تسلیم کر لیا۔ اقوام متحدہ نے کشمیر میں استصواب رائے اور حق خود ارادیت کا موقع فراہم کرنے کے حق میں قرار دادیں پاس کیں مگر بھارت نے بین الاقوامی رائے عامہ کو بھی در خور اعتناء نہ جانا۔ کشمیری عوام کی جدوجہد حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھی جائے گی اور اس جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے اور مظلوم کشمیری عوام کو ظلم سے نجات دلانے کے لئے ان کی بھرپور سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد کی جائے گی تاکہ انہیں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں استصواب رائے کا حق دیا جائے گا اور کشمیری عوام اپنی مرضی سے آزادی کی زندگی گزار سکیں۔