متفرقات

صحت پالیسی
صحت پالیسی کے بنیادی نکات یہ ہوں گے
۔ جسمانی اور ذہنی صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے ۔
2۔ علاج کی بجائے مدافعت( پرہیز) کا اصول اپنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لئے ماحول کی پاکیزگی اور صفائی کا موثر اہتمام کیا جائے گا۔
۔ تمام آبادی کا سالانہ طبی معائنہ حکومت کے ذمہ ہوگا۔
۔ میڈیکل کی بنیادی تعلیم میٹرک تک کے لئے لازمی ہوگی
5۔ پیرا میڈیکل سٹاف میں خاطر خواہ اضافہ کر کے عوام کے علاج معالجے کی ضروریات کو پورا کیا جائے گا۔
۔ گھر گھر طبی سہولیات پہنچانا حکومت کی ذمہ داری ہوگی
۔ طب اسلامی، ہومیو پیتھک و ہر بل طریق علاج کو رواج دیا جائے گا
8۔ ادوایت سازی کی صنعت کو اس نہج پر قائم کیا جائے گا کہ عوام کو معیاری اور سستی ادویات میسر آسکیں۔
۔ میڈیکل ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جائے گا۔
خاندان
خاندان اسلامی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے اس کی تشکیل، استحکام اور تقدس کو قائم اور برقرار رکھا جائے گا
دیہی علاقوں کی ترقی
پاکستان میں مجموعی طو ر پر دیہی علاقوں کی حالت بہت پس ماندہ ہے جبکہ تقریباً ستر فیصد عوام دیہی علاقوں میں بستے ہیں۔ غلط اقتصادی منصوبہ بندی اور سہولیات کی غیر متوازن فراہمی کی وجہ سے ملک کی زراعت روبہ زوال ہے اور شہریوں کی طرف نقل مکانی کا عمل تیزی سے جاری ہے اس کے باعث خود شہروں کی حالت مزید ابتر ہورہی ہے اس صورت حال کی اصلاح اور دیہی ترقی کے لئے زریع پالیسی اور دیگر عنوانات کے تحت دیئے گئے امور کے علاوہ مندرجہ ذیل اقدامات کئے جائیں گے ۔
٭ دیہی علاقوں میں زرعی بنیاد کی حامل صنعتوں کا جال بچھایا جائے گا۔

بجلی و گیس کی فراہمی میں دیہی علاقوں کو ترجیح دی جائے گی

٭ دیہات کو سڑکوں کے ذریعے منڈیوں اور شہروں سے منسلک کردیا جائے گا۔

٭ دیہات کی تعلیمی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے گا۔

پولیس

٭ پولیس کی از سر نو تشکیل و تنظیم کی جائے گی اس مقصد کے لئے پولیس میں درجہ بندی کو کم سے کم تر کردیا جائے گا۔ بھرتی کے نظام میں بھی بنیادی تبدیلیاں عمل میں لائی جائیں گی اور میرٹ کو بنیاد بنایا جائے گا۔

٭ پولیسی کی دینی بنیادوں پر موثر تربیت کی جائے گی اور اسے معاشرتی امن و سکون اور عدل اجتماعی کا ہمدرد و محافظ بنایا جائے گا۔

٭ پولیس میں ترقی کے لئے تقویٰ و پرہیز گاری اور عوامی خدمت کو بنیادی اہمیت دی جائے گی

٭ پولیس حکومت کی نہیں بلکہ قانون اور عوام کی محافظ ہوگی

٭ دوران تفتیش ہر قسم کے تشدد کو سختی سے ختم کردیا جائے گا

٭ ملزم کے اعزازو اقرباء کو پریشان کئے جانے کے عمل کا سختی سے خاتمہ کردیا جائے گا۔

قید خانے

٭ قید خانوں اور جیلوں کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں کی جائیں گی اور انہیں تصور اسلام کے مطابق مراکز اصلاح میں تبدیل کردیا جائے ان کی عمارات کو انسانوں کے رہنے کے قابل بنایا جائے گا ان کا نام بھی تبدیل کردیا جائے گا۔

٭ ان میں ہر قسم کے تشدد اور غیر انسانی و غیر اسلامی سلوک کا خاتمہ کردیا جائے گا۔

٭ مراکز اصلاح کے عملے کو جدید اسلامی تقاضوں کی روشنی میں تربیت دی جائے گی

٭ مجرموں اور قیدیوں کی اسلامی تربیت کا اہتمام کیا جائے گا

٭ ان پڑھ اور بے ہنر قیدی جو اپنے اہل ذمہ کی کفالت نہ کرسکیں ان کے اہل خانہ کی کفالت حکومت کرے گی

٭ شادی شدہ قیدیوں کو اپنے ازدواجی فرائض کی ادائیگی کے لئے مناسب سہولیات فراہم کی جائیں گی

٭ قیدیوں کو قوم پر مالی بوجھ بنانے کی بجائے انہیں ان کی صلاحیتوں کے مطابق روزگار کی فراہمی کے مناسب ادامات کئے جائیں گے۔

نظام زکواۃ

تمام مسلمانوں کے لئے ان کے مسلمات کو مد نظر رکھتے ہوئے زکواۃ کے نظام کو رائج کیا جائے گا

بیت المال

بیت المال کے ذریعے بلا امتیاز ہر احتیاج رکھنے والے فرد کی معاونت اس طرح کی جائے گی کہ وہ اپنے پائوں پر کھڑا ہو سکے۔

اوقاف

اوقاف جس مسلک کے افراد سے متلقہ ہوں گے ان کا انتظام و انصرام اسی مسلک کے پیروکاروں کے سپرد کیا جائے گا۔

٭٭٭٭٭