نظریاتی اور عملی لحاظ سے اسلام اپنی نہایت قیمتی،ترقی یافتہ اور متنوع ثقافت رکھتا ہے۔ آج مجموعی طور پر انسانی معاشرہ ثقافتی المیے سے دو چار ہے۔ ثقافت بڑی طاقتوں کے سامراجی مقاصد کا ذریعہ بن چکی ہے اور ثقافت ہی انسانی صلاحیتوں اور فکر و فن کے انحراف اور خاتمے کا وسیلہ بن چکی ہے۔ ضروری ہے کہ اسلامی ریاست میں خود اس کی بقاء اور ترقی کے لئے اجتماعی اور انفرادی حوالے سے اسلام کی زبردست طاقتور اور متحرک نظریاتی ثقافت کو فروغ دیا جائے۔
اسلامی ثقافت کی بنیادیں یہ ہیں۔
1۔ اسلامی کے احکام اور تعلیمات اسلامی ثقافت کی بنیاد ہیںاسلام کے اجتماعی اور انفرادی ضوابط اسلامی ثقافت کی حدود متعین کرتے ہیں
2۔ اسلام کے نزدیک انسان محض ایک لوہے کی مشین نہیں بلکہ یہ دل بھی رکھتا ہے اور دماغ بھی اس کے روحانی اور معنوی تقاضے بھی ہیں۔
3۔ اسلام تفریح برائے تفریح کی بجائے ثقافت کے تفریحی اور جمالیاتی پہلو کے تکامل اور ارتقاء کے لئے ایک ناگزیر معاون و مددگار سمجھتا ہے۔
4۔ اسلام اپنے فروغ کے لئے اپنی ثقافت کو ایک نہایت اہم اور موثر ذریعہ سمجھتا ہے۔ نیز اس کے ساتھ ساتھ اسلام ثقافتی پروگرام کے ذریعے علم و آگہی کی سطح بلند کرتا ہے۔
5۔ اسلام انسان کے فطری تقاضوں کو دبانے پر نہیں بلکہ انہیں باقاعدہ و باضابطہ بنانے پر یقین رکھتا ہے۔
اسلامی ثقافت کے انہی اصولوں اور بنیادوں کی روشنی میں پاکستان کو حقیقی اسلامی ریاست کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے اس محاذ پر یہ اقدامات کئے جائیں گے۔
٭ تمام غیر ملکی ثقافتی معاہدوں پر نظرثانی کی جائے گی اور پاکستان کی اسلامی اساس سے متصادم غیر ملکی ثقافتی سرگرمیوں کو بند کردیا جائے گا۔
٭ ثقافت کے نام پر فحاشی، عریانی، بے حیائی اور دیگر اخلاقی گمراہوں کی ترویج کو ختم کردیا جائے گا۔
٭ علاقائی زبانوں اور ثقافتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
٭ شعر و سخن اور فنون لطیفہ کے دیگر شعبوں کی سرپرستی کی جائے گی
٭ ملک میں ایسا ماحول مہیا کیا جائے گا کہ فنکار معاشی اور سیاسی جبر سے آزاد ہو کر اسلامی اقدار کے تحت معاشرہ کی تعمیر و ترقی کے لئے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرسکیں۔
٭ صحت مندانہ کھیل اور تفریحی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔





