نظام معیشت

نظام معیشت

زمین اور اس کے وسائل اللہ کی ملکیت ہیں۔ انسان زمین پر ان وسائل کا امین ہے۔ان وسائل کی تقسیم اور ان کا تصرف انسانی بقاء اور ارتقاء کے نقطہ نظر سے عادلانہ طور پر ہونا چاہیئے تھا لیکن دنیا کا موجودہ معاشی نظام انتہائی ظالمانہ ہے اس نظام نے دنیا کی کثیر اور وسیع آبادیوں کو محرومیوں کا شمار کر رکھا ہے۔
خود پاکستان میں رائج معاشی نظام بڑی طاقتوں اور ان کے زیر تسلط اداروں کے تقاضے پورے کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے اور یہ نظام ظلم و استحصال کا سبب بن رہا ہے۔

لہذا ضروری ہے کہ۔۔۔۔
ملک میں موجودہ معاشی نظام کو یکسر تبدیل کر کے اسلام کے عدل اجتماعی کی بنیاد پر قائم اقتصادی نظام نافذ کیا جائے جس میں
٭  ہر قسم کے معاشی استبداد کی نفی،
٭  طبقات تفاوت کا خاتمہ،
٭ بنیادی ضرورت کی فراہمی،
٭ ہر شخص کو روزگار کی فراہمی،

٭  ملک کے خود کفیل ہونے کی ضمانت موجود ہو

لہذا یہ بھی ضروری ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔
قومی اقتصادی منصوبہ بندی اس انداز میں کی جائے کہ فرد اپنی معاشی جدوجہد کے ساتھ معنوی و روحانی خود سازی کے مواقع بھی حاصل کرسکے۔
۔ مالکیت کی حد بندی
مالکیت کی حدود کا تعین کیا جائے گا تاکہ وسائل و آلات پیداوار کی عادلانہ تقسیم ممکن ہوسکے
۔ ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ
ذخیرہ اندوزی اوراحتکار چونکہ معاشرے میں استحصال و استمشار کو جنم دیتا ہے لہذا تمام بنیادی ضرورت زندگی کی نجی سطح پر ذخیرہ اندوزی ممنوع قرار دے دی جائے گی۔ اشیائے خوردنی کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والے اسباب ختم کردیئے جائیں گے۔
۔ اسراف کا خاتمہ
اشیائے صرف کے بے جا استعمال اور انہیں ضائع یا تلف کرنے سے روکنے کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔
۔ناجائز منافع خوری اور اجاہ داری کا خاتمہ
ہر قسم کی اور ہر حیلے سے کی جانے والی ناجائز منافع خوری اور اجارہ داری کو ختم کردیا جائے گا۔
۔ پیشے کا انتخاب
ہر فرد کو پیشے کے انتخاب کی آزادی ہوگی البتہ خلاف اسلام اور مفاد عامہ کے منافی پیشہ اختیار کرنے کی اجازت ہرگز نہ ہوگی نیز ہر طرح کے حرام کاروبار کو مکمل طور پر ختم کردیا جائے گا۔
۔  نظام مالیات
نظام مالیات کو اسلامی تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے گا اس مقصد کے لئے سود کی ہر شکل کو ختم کردیا جائے۔ تجارتی منافع کی شرح کا تعین بھی کیا جائے گا تاکہ زیادہ منافع سود ( ربا ) کی شکل اختیار نہ کرسکے ۔معیشت کے مختلف شعبوں میں مندرجہ ذیل پالیسیاں اختیار کی جائیں گی۔
تجارتی پالیسی
٭  بین الاقوامی تجارت حکومت کے کنٹرول میں ہوگی۔
٭  بین الاقوامی سودی نظام کے مہلک اثرات سے بچنے کے لئے اشیاء کے بدلے اشیاء کی طرز تجارت اختیار کی جائے گی۔
٭  درآمدات و برآمدات کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا اور اشیائے تعیش کی درآمد مکمل طور پر بند کردی جائے گی نیز ملکی ضرورت کی ملک میں پیداوار کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
صنعتی پالیسی
۔۔۔۔ انفرادی صنعی مالکیت کی حدود کا تعین کیا جائے گا۔
۔۔۔۔ تمام بھاری صنعتیں قومی ملکیت میں ہوں گی
۔۔۔۔ آلات تولید پیدا کرنے والے کارخانے حکومتی کنٹرول میں ہوں گے۔
۔۔۔۔ گھریلو صنعتوں کو مکمل تحفظ دیا جائے گا۔
۔۔۔۔ بیرونی سرمایہ کاروں کو ملکی مفادات کی روشنی میں سرمایہ کاری کی اجازت دی جاسکے گی
۔۔۔۔ پرائیوٹائزیشن اس انداز میں ہوگی جس سے اجارہ داری اور استحصال نہ ہوسکے
زرعی پالیسی
۔۔۔۔ مالکیت زمین کی شرعی ضرورت کے تحت جانچ پڑتال کی جائے گی اور ہر قسم کی ناجائز زمینداریاں اور جاگیرداریاں ختم کردی جائیں گی۔
۔۔۔۔ بنجر قدیم اراضی کو اسلامی حکومت اپنی تحویل میں لے کر آبادکاروں میں تقسیم کرے گی
۔۔۔۔ نظام حقیقت اراضی کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا اور اسے عدل اسلامی کی بنیادوں پر استوار کیا جائے گا۔

۔۔۔۔اسلامی اصولوں کے مطابق مزارعین کو ان کے حقوق دلوائے جائیں گے۔

۔۔۔۔زرعی پیداوار میں اضافہ کے لیے خاطر خواہ اقدامات کئے جائیں گے اور ملکی معیشت میں زرعی شعبہ کا کردار موثر بنایا جائے گا۔
۔۔۔۔مشینی کاشت اور جدید زرعی آلات کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے تعاونی کاشت کے نظام کی حوصلہ افزائی کیا جائے گی۔
۔۔۔۔پانی کی تقسیم صوبوں اور عوام تک عادلانہ بنیادوں پر ہوگی۔
لیبر پالیسی
لیبر پالیسی کے بنیادی نکات یہ ہوں گے
۔۔۔۔ بڑے بڑے سرمایہ دار کو محنت کش کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈالنے کی جائے گی۔
۔۔۔۔ مزدور کو کارخانے کے منافع میں حصہ دار بنایا جائے گا۔
۔۔۔۔انتظامی معاملات میں مزدوروں کو موثر نمائندگی دی جائے گی۔
۔۔۔۔مزدوروں کو مکمل سماجی تحفظ دیا جائے گا
۔۔۔۔مزدوروں کے بچوں کی مفت تعلیم کا اہتمام کیا جائے گا۔
۔۔۔۔مزدور اور اس کے اہل خانہ کی صحت کی ضروریات کی مفت فراہمی کا انتظام کیا جائے گا۔
۔۔۔۔مزدور کی تنخواہ کا تقرر اجتماعی معیار زندگی کی ضرورتوں کو مد نظر رکھ کر کیا جائے گا۔
۔۔۔۔مزدور کو اس وقت تک ملازمت سے نہیں نکالا جاسکے گا جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ اس نے اپنی ذمہ داریویں کے خلا کردار ادا کیا ہے۔
۔۔۔۔غیر ہنر مند منزدوروں کو ہنر مند بننے کے مواقع کارخانے مفت مہیا کرے گا۔

ملازمین کے حقوق

۔۔۔۔ لیبر پالیسی میں مزدور کو حاصل تمام حقوق و مراعات ملازمین کو بھی حاصل ہوں گی
۔۔۔۔ طبقات تفاوت پیدا کرنے والا مروجہ گریڈ سسٹم ختم کر کے انتہائی مختصر انتظامی درجوں پر مشتمل نیا نظام رائج کیا جائے گا۔