نظام قانون
ضروری ہے کہ پاکستان کا نظام قانون ان اصولوں پر استوار ہو
٭قانون کا سرچشمہ للہ کی ذات ہے
٭ اللہ کے قانون کا منبع قرآن اور سنت ہیں۔
٭کوئی فرد یا گروہ قانون سے بالاتر نہیں ہے۔
ہمہ گیر قانون
قانون کی ہمہ گیری کے لئے ضروری ہے کہ وہ جامع اور مدون ہو اس مقصد کیلئے قانون ساز ادارہ یہ اقدامات کرے گا۔
٭ ہر وہ قانون اور قانون کی ہر اس بنیاد کو ختم کردے گا جو قرآن و سنت کے خلاف ہو۔
٭ مسلمہ اسلامی مکاتب فکر کی متفقہ آراء کو اجتماعی قوانین کی حیثیت سے مدون کرے گا۔
٭ مسلمہ اسلامی مکاتب فکر کی اختلافی آراء کو ہر مکتب فکر کے مختص قوانین کے زمرے میں مدون کرے گا۔
٭ وہ تمام موضوعات جنہیں شریعت نے انسانوں کے تکامل و ارتقاء اور معاشرتی تغیرات کے پیش نظر لوگوں کی صوبدید پر چھوڑ دیا ہے اور وہ واجب یا حرام کے قطعی احکام میں شامل نہیں ہیں ان میں قرآن و سنت کے راہنما اصولوں کی روشنی میں عوام کی بہبود اور ملی مصالح کے پیش نظر قانون سازی کرے گا قانون سازی کا یہ شعبہ’’ شعبہ آزاد قانون سازی ‘‘ کہلائے گا۔





