نظام حکومت

نظام حکومت
حکومت کے بنیادی اہداف یہ ہیں۔
٭ اللہ کی زمین پر اللہ ہی کی حکومت
٭ انسان پر انسان کے ناروا غلبے کا خاتمہ چاہے وہ فرد کی صورت میں ہو یا گروہ کی صورت میں
٭ فرد اور معاشرے کو ہر قسم کے ظلم، جبر اور استحصال سے نجات ملے
٭ انسان باہمی محبت، احترام، رواداری، موآخات اور مساوات کی بنیاد پر اس طرح سے زندگی گزاریں کہ انسانی معاشرہ جنت نظیر ہو جائے۔
٭ نظم معاشرہ برقرار رہے۔
٭ معاشرے میں فضیلت و برتری کا معیار تقویٰ قرار دیا جائے۔
اسی تصور حکومت اور انہی اہداف حکومت کے پیش نظر پاکستان میں نظام حکومت کے خدوخال یہ ہوں گے۔
سر چشمہ آئین و قانون
قرآن و سنت پاکستان کے آئین اور قانون کا سرچشمہ ہوں گے۔ آئین، آئین کی کوئی دفعہ یا کوئی قانون ہرگز خلاف قرآن و سنت نہیں ہوگا۔قرآن و سنت کی تعبیر کے لئے زمینی وار زمانی تقاضوں کو مد نظر رکھ کر اجتہاد کی اجائے گا اور اس کی روشنی میں ہر نظام کی تدوین و تشکیل کی جائے گی۔
وفاقی پارلیمانی نظام
نظام حکومت وفاقی پارلیمانی ہوگا وفاقی اکائیوں /صوبوں کو آئین کے تحت زیادہ سے زیادہ خود مختاری دی جائے گی اور ضرورت کے مطابق مزید صوبے بھی تشکیل دیئے جاسکیں گے۔
ریاستی ادارے
ریاست کے تین ادارے یعنی مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ باہم مربوط مگر کاملاً آزاد ہوں گے۔