نظام تعلیم
علم اور ذوق تحقیق انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ حصول علم ہر فرد بشر کا بنیادی حق بھی ہے اور فطری ذمہ داری بھی۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اس حق کے حصول اور اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے ہر فرد کی سرپرستی کرے تاکہ ہر شخص آزادانہ تحقیق و جستجو اور آگہی و بـصیرت کے ذریعے اپنا مقصد تخلیق پورا کرتے ہوئے ارتقاء و کمال کی طرف بڑھ سکے۔
لیکن۔۔۔۔ فروغ شعور کے ساتھ ساتھ تعمیر سیر ت و کردار بھی ناگزیر ہے لہذا نظام تعلیم کو اندر کے انسان کی تربیت کا ذریعہ بھی ہونا چاہیئے جب کہ پاکستان میں رائج نظام تعلیم نہ فقط ان مقاصد کو پورا نہیں کرتا بلکہ ان کے حصول کی راہ میں رکاوٹ بھی ہے۔ ان حالات میں تعلیمی و ثقافتی انقلاب برپا کرنے کے لئے اس نظام تعلیم کو یکسر تبدیل کرنا ہوگا۔
اس مقصد کے حصول کے لئے اسلامی ریاست میں نظام تعلیم کا ان خطوط پر استوار ہونا ضروری ہوگا
٭ نصام تعلیم اس نہج پر ترتیب دیا جائے گا کہ
۔۔۔ تعلیم اور تربیت کے تمام تقاضے پورے ہوں
۔۔۔ وسعت نظراورادراک حقیقت کے لئے تقابلی مطالعہ پیش کرے
۔۔۔ دنیاوی اور مذہبی تعلیم کے درمیان پیدا کردہ تفاوت دور کرنے کا ذریعہ ہو
٭ طبقاتی درجہ بندی کے خاتمہ کے لئے
|
۔۔۔ نصاب میں یکسانیت
۔۔۔لباس میں برابری
۔۔۔ ذریعہ تعلیم میں ہم آہنگی اور
۔۔۔ سہولیات میں مساوات قائم کی جائے گی
٭ عمرانی علوم اور فنی تعلیم میں ربط اور توازن پیدا کیا جائے تاکہ
۔۔۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں پیش رفت کے ساتھ ساتھ انسان شناسی کا شعور بھی پروان چڑھے
۔۔۔سائنس کی ترقی انسانی تقاضوں اور اخلاقی اقدار سے گریزاں نہ ہو
اس نظام تعلیم کو ثمر آور بنانے کے لئے پاکستان میں درج ذیل اقدامات کئے جائیں گے ۔
٭ نصاب تعلیم میں ہر مکتب کے عقائد ، فقہ اور تاریخ کی تعلیم اور امتحانی پرچہ جات کی چیکنگ کے لئے مناسب انتظام کیا جائے گا۔
٭ مذہبی تعلیمی اداروں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا اور عام تعلیمی اداروں کے نصاب اور پروگرام کو انہی تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے گا۔ ٭ عام تعلیمی اداروں میں ہر سطح پر اور ہر شعبے میں قومی زبان کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے گا اور اس مقصد کے لئے نصابی کتب اور متعلقہ کتب کافی الفور قومی زبان میں ترجمہ کیا جائے گا۔
٭ حصول تعلیم کے مواقع اور سہولیات لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے یکساں ہوں گے
٭ تعلیمی پالیسی پر موثر عمل درآمد کے لئے تعلیمی بجٹ میں ہر ممکن اضافہ کیا جائے گا۔
٭ میٹرک تک تعلیم لازمی اور بلامعاوضہ ہوگی
٭ فنی تعلیم عام کی جائے گی اور اس شعبہ کی تیز رفتار اور ہمہ گیر ترقی کے لئے زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں گی یہ پیش نظر رکھتے ہوئے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں مغرب کی بالادستی کا خاتمہ ہوسکے۔
٭ عرصہ تعلیم میں اضافے کے سبب نوجوانوں کے لئے تشکیل خاندان میں تاخیر اور مشکلات پیدا ہوچکی ہیں اس سلسلے میں حکومت شادی کے لئے طالب علموں کو آسان شرائط پر خصوصی قرضے فراہم کرے گی۔
٭ ملازم پیشہ افراد کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ قابلیت میں اضافے کے لئے جامع منصوبہ بندی کی جائے گی۔
٭ شرح خواندگی میں اضافے کے لئے تعلیم بالغاں کا ہمہ گیر انقلابی پروگرام شروع کیا جائے گا جس کے تحت مزدوروں ، کسانوں، خواتین حتیٰ کہ جیل میں موجود قیدیوں تک کے لئے تعلیم و تربیت کا انتظام کیا جائے گا اور اس پروگرام پر عمل درآمد کے لئے باقاعدہ تعلیمی اداروں کے طالب علموں کے صلاحیتوں سے بھی استفادہ کیا جائے گا۔
٭ ذوق مطالعہ کے فروغ اور شوق تخلیق کی تکمیل کے لئے تعلیمی اداروں کے علاوہ مقامی اور دیہی سطح پر لائبریریوں کا جال بچھایا جائے گا اور موجودہ لائبریریوں کا معیار بلند کیا جائے گا۔
٭ اساتذہ کی پیشہ وارانہ اور نظریاتی تربیت اور اعلیٰ تعلیم کے لئے توسیعی پروگرام شروع کیا جائے گا
٭ اساتذہ کی سنیارٹی ان کی پیشہ وارانہ قابلیت اور تعلیمی خدمات کی بنیاد پر متعین کی جائے گی۔
٭ تعلیمی ماحول کو بامقصد، پاکیزہ اور ارتقاء پزیر پر بنانے کے لئے نیز تعلیمی مسائل کے حل کے لئے ایک ایسا نظام وضع کیا جائے گاجس میں اساتذہ، طلبہ اور والدین کی موثر شرکت یقینی ہو۔
٭ طلبہ کے لئے صحت مندانہ غیر نصابی علمی و تفریحی سرگرمیوں کی سرپرستی کی جائے گی البتہ ان سرگرمیوں کو تعلیم و تربیت کے بنیادی نظریاتی مقاصد سے ہم آہنگ رکھا جائے گا۔
٭ امور مملکت و سیاست میں طلبہ کے اجتماعی موقف اور رائے کو قومی پالیسیوں کی تشکیل میں ملوظ خاطر رکھا جائے گا۔
٭ عربی زبان کی تعلیم و ترویج کے لئے مناسب اقدامات کئے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ قرآن حکیم اور اسلامی تعلیمات کے دیگر سرچشموں سے براہ راست استفادہ کرنے کی صلاحیت کرسکیں۔
|
|