آغاز سخن

مسائل

لا الہ الا اللہ کے ولولہ انگیز انقلابی نعروں کی گونج میں پاکستان معرض وجود میں آگیا لیکن اس نوزائیدہ مملکت کو بہت سے مسائل بھی حصہ میں ملے۔ مہاجرین کی آباد کاری، اثاثوں کی تقسیم، معاشی مشکلات اور موثر انتظامی ڈھانچہ کی عدم موجودگی اور زیر خط سالمیت جیسے سنگین مسائل پر عوام کی پرجوش شرکت اور ہمہ گیر اعتماد کے بغیر صحیح طو رپر قابو پانا ممکن نہ تھا۔ ضروری تھا کہ عوام کے اسلامی انقلابی جذبے کو بروئے کار لا کر اس مملکت کی تعمیر کا آغاز کیا جاتا مگر حکمران طبقہ آہستہ آہستہ عوام سے دور ہوتا چلا گیا۔ شاید حکمران چاہتے بھی یہی تھے کہ عوام امور مملکت میں دلچسپ لینا چھوڑ دیں تاکہ وہ اقتدار کے ایوانوں میں جو چاہیں کرسکیں۔ حکمرانوں کی اس روش نے مزید کئی ایک سنگین مسائل اور مشکلات کو جنم دیا۔

آئین اور ترامیم

ان میں سب سے اہم مسئلہ آئین سازی کا تھا۔ پاکستان کی آئینی تاریخ انتہائی درد ناک ہے۔ پہلا آئین تخلیق پاکستان کے نو سال بعد سامنے آیا پھر اس کے بعد آئین بنتے رہے۔ ان میں ترامیم ہوتی رہیں، منسوخ یا معطل ہوتے رہے، آئین اور اس میں ترامیم کا مسئلہ آج بھی غیر یقینی صورت حال کا شکار ہے۔

مسئلہ کشمیر

ابتداء سے ہی مسئلہ کشمیر بھی پاکستان کا سنگین مسئلہ رہا ہے اور اس کے داخلی سیاست، خارجہ تعلقات، قومی سلامتی اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس حساس قضیہ کو حکمران اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتے چلے آئے ہیں۔

نظام حکومت و سیاست

ترجیحات کے اعتبار سے یہ معاملہ کسی طور پر بھی ثانوی قرار نہیں دیا جاسکتا کہ پاکستان کا نظام حکومت و سیاسی کوئی معین و مشخص صورت اختیار نہیں کرسکا۔ اس کی وجوہات کچھ بھی پیش کی جائیں یہ امر مسلمہ ہے کہ بالا دست طبقوں نے کئی روپ بدلے ہیں۔ کبھی جمہوریت کا راگ الاپا گیا، کبھی مضبوط مرکز کا نعرہ بلند کیا گیا، کبھی سوشلزم کا سہارا لینے کی کوشش کی گئی، کبھی عوام کی مالاجپی گئی، کبھی اپنی منشاء کے مطابق نظریہ ضرورت تراشا گیا اور کبھی اسلام کو مسند اقتدار کا زینہ بنایا گیا البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اختیارات کی تقسیم میں کمی بیشی کے ساتھ بہروپ،صورتیں اور ظاہری وابستگیاں بدل بدل کر مخصوص طبقے ہی حکمران رہے ہیں۔ پاکستان پر عوام کے نمائندوں کی نہیں بلکہ زر اور زور والوں کی حکومت رہی ہے۔ اقتدار کا حامل طبقہ ہر قسم کی سیاسی اخلاقیات سے ماورا ہو کر صرف اور صرف اپنے اقتدار کی طوالت کے لئے جوڑ توڑ، سازش اور منافقانہ گٹھ جوڑ میں ہمہ وقت مبتلا رہا ہے۔
ان حالات میں کیونکہ ممکن تھا کہ…………
٭……خدا کی زمین کے اس حصے پر قانون الٰہی نافذ ہو اور اس کے مطابق دولت کی منصفانہ تقسیم ہو۔
٭……پسے ہوئے محروم طبقوں کو ان کے چھنے ہوئے حقوق ملیں۔
٭…… انتظامیہ عوام کی ہمدرد اور پولیس خدمت گار ہو۔
کیونکہ تمام تر وسائل تو حکمران طبقوں کے خدمت گزار تھے۔ مختلف ادوار میں پاکستان کے بجٹ میں سرمائے کی تقسیم اور عدلیہ و انتظامیہ کی عملی صورت حال اس بات کی شاہد ہے۔

سیاہ ثقافت کے منحوس سائے

یہ امر مسلمہ ہے کہ ثقافت سے اجتماعی شعور کے خدو خال ابھرتے ہیں اور تہذیب و تمدن کے حوالے ہی سے قوموں کے انداز فکر و عمل کا تعین کیا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں ثقافت ارتقائی سفر کی سمت اور منزل کے مکان کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔ابتداء ہی سے پاکستان میں مغرب کے سیاسی اثر و نفوذ اور معاشی غلبہ اور مخصوص فکری تربیت نے ثقافتی سامراجیت کو بھی پروان چڑھایا اور رفتہ رفتہ ہمارا معاشرہ مغربی تہذیب و تمدن کی غلیظ دلدل میں اس درجہ اتر گیا کہ اسلام کی پاکیزہ اقدار اور اہی روایات یکسر فراموش ہو گئیں۔ آج حالت یہ ہے کہ ہم انسان دشمن مغربی ثقافت کی بھونڈی نقالی کرتے ہوئے اپنا تشخص اور اپنی شناخت بھلا بیٹھے ہیں۔ اجنبی اور غیر مانوس رسموں اور رواجوں کو اپنانے نے ہماری اجتماعی زندگی کو فکری انتشار کا شکار بنا کر بے مقصد یت کی راہ پر گامزن کردیا۔
غیر اسلامی اور انسانیت کش ثقافتی یلغار نے فخاشی، عریانی،بے حیائی کے جن رویوں کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے ہماری معاشرتی زندگی کے ہر گوشہ کو تہہ و بالا کردیا ہے۔ خصوصاً نوجوانوں کو گمراہ کن سرگرمیوں اور لایعنی کھیل تماشے میں الجھا کر ملک کو ذلت اور تباہی کی طرف لے جانا اسی ثقافت شاخسانہ ہے۔ ذہین اور فکرکی اس روش کے نتیجہ میں نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد منشیات کا شکار ہورہی ہے اور زندگی کے حقائق سے فرار کے لئے تباہ کن راستے تلاش کررہی ہے۔

معیشت کی زبوں حالی

پاکستان کی معیشت اس وقت بین الاقوامی اداروں کے کنٹرول میں ہے۔ زراعت، صنعت، تجارت غرض تعمیر و ترقی کے تمام تر منصوبوں کی منصوبہ بندی کا انحصار انہی طاقتوں اوراداروں کی شرائط پر ہے۔ دن بدن پاکستان پر قرضوں اور ان کے سود در سود کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے۔ ملک کی وسیع آبادی محرومیوں کا شکار ہے۔ دیہی اور شہری زندگی کے درمیان بہت زیادہ فرق ہے خود شہروں میں پس ماندہ شہریوں کے وسیع طبقوں اور امراء کے علاقوں میں نمایاں فرق ہے۔ یہ فرق وسائل اور دولت کی غیر منصفانہ اور ظالمانہ تقسیم کا مظہر ہے

مروجہ نظام تعلیم

پاکستان میں رائج نظام تعلیم مروجہ نظام کو مستحکم کرنے کے لئے تخلیق کیا گیا ہے یہ ایک دوہرا تہرا نظام ہے۔ یہ نظام مغرب کے مادی فلسفے اور مادی تقاضوں کی روشنی میں تشکیل پایا ہے۔ ا س کا نصاب اور تشکیلات تمام کلیتاً مادی انسان تیار کرنے کے لئے وضع کی گئی ہیں اس نظام کے ذریعے تعلیم کو دینی اور دنیاوی کے نام پر تقسیم کر کے ان میں اس قدر بعد پیدا کردیا گیا ہے کہ ایک طبقے دوسرے کو تعلیم یافتہ تسکین کرنے کیلئے تیار نہیں۔ اس نظام میں بھی آج تک ملک میں تعلیمی بجٹ نامعقول حد تک کم رہا ہے۔ غریبوں کیلئے اعلیٰ تعلیم کا حصول انتہائی مشکل بنادیا گیا ہے یہ نظام ملک میں حکمران ان کے معاون اور غلام طبقے پیدا کرتا ہے۔

عدلیہ کی ناگفتہ بہ حالت

ایک اسلامی معاشرے میں عدلیہ انسانی حقوق کی محافظ اور عوام کی داد رسی کا ایک اہم ادارہ ہوتی ہے مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستانی اپنے یہ فرائض پورا کرنے میں ناکام رہی ہے اس کی ایک اہم وجہ تو عدلیہ سے متعلق امور میں انتظامیہ کی ناروا مداخلت ہے جس نے عدلیہ کے آزاد کردار کو بالکل مسخ کردیا ہے۔ علاوہ ازیں مروجہ قوانین کا ایک بہت حصہ غیر اسلامی قوانین پر مشتمل ہے جو انسان کے فطری تقاضوں سے ہرگز ہم آہنگ نہیں ہیں۔ ان نقائص کے علاوہ حصول انصاف کے طویل اور گراں بہا طریقہ کار نے عدلیہ کو بہت حد تک مفلو ج کر رکھا ہے۔ جب کہ دوسری طرف اراکین عدالت کی دیانت کے بارے میں بھی شکایات عام ہیں ان حالات میں مجموعی طور پر عوام عدالتوں سے مایوس ہوچکے ہیں۔
یہ سنگین مسائل کے چند پہلو ہیں جنہوں نے وطن عزیز کو اپنی منحوس گرفت میں لے رکھا ہے ان مسائل کے سائنسی تجزیہ کے نتیجہ میں یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ان تمام خرابیوں کی وجہ اورموجودگی کا سبب یہ عناصر ہیں۔
٭ حکمران طبقہ…………اور
٭ مروجہ نظام
ان عناصر کے باہمی تعلق کی اس حوالے سے تشریح کی جاسکتی ہے کہ عالمیی سامراج پاکستان میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے حکمران طبقہ کی سرپرستی کرتا رہا ہے اور حکمران طبقہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے سامراج کی کاسہ لیسی اور مروجہ نظام کے تحفظ کے لئے سرگرم عمل رہا ہے۔

ہمہ گیر جدوجہد کا آغاز

اس پس منظر اور ان حالات میں ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ پاکستان میں جدوجہد کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے اور یہ جدوجہد کس کے خلاف، کس کی حمایت میں کس کس کو، کس انداز سے لڑنا ہے۔
……یہ جدوجہد
٭ عوام کو وسیع پیمانے پر انقلابی شعور دیئے بغیر ار انہیں حقیقی دشمن، اس کے مقاصد،ہتھکنڈوں اور سازشوں سے آگاہ کئے بغیر ہرگز نہیں کی جاسکتی اس لئے کہ یہ تمام تر سازشیں در حقیقت عوام ہی کے خلاف ہیں اور بالاخر یہ جدوجہد عوام ہی کو کرنا ہے۔
……البتہ یہ جدوجہد
٭ پاکباز، صاحب بصیرت، باایمان، متقی، مجاہد اور با ایثار قیادت کے بغیر نہیں کی جاسکتی۔ عوام کو اپنی اس قیادت کو پہچاننا ہوگا اور ہم آہنگ ہو کر حوصلے اور جذبے سے نجات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

زیر نظر منشور

اسی جدوجہد کے مقاصد اور خطوط واضح کرتا ہے، حقیقی اسلامی تحریک کی بنیاد فراہم کرتا ہے اور اسلامی حکومت کے اہداف اور پروگرام کی عکاسی کرتا ہے۔