مولودِ کعبہ حضرت علیؑ کی ولادت پر آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام

مولودِ کعبہ حضرت علی کی ولادت | عدلِ علوی عالمی ماڈل سربراہ اسلامی تحریک پاکستان

سربراہ اسلامی تحریک، قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب کی ولادت باسعادت (13 رجب المرجب) کے پرمسرت اور بابرکت موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خدا تعالیٰ اور پیغمبر اکرم ﷺ پر ایمان رکھنے والوں کے لیے ماہِ رجب المرجب کا یہ دن عظیم سعادت اور مسرت کا دن ہے، کیونکہ اسی دن نفسِ رسول، امیرالمومنین حضرت علیؑ خانۂ کعبہ کے اندر متولد ہوئے۔ یہ ولادت محض ایک شخصیت کی پیدائش نہیں بلکہ امامت، قیادت اور الٰہی نظامِ پیشوائی کی ولادت ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت علی کی خصوصی تربیت خود پیغمبرِ گرامی اسلام ﷺ نے فرمائی۔ آپ ہر لمحہ رسولِ خدا ﷺ کے ساتھ رہے، جس کے اثرات آپ کی شخصیت، فکر، کردار اور طرزِ حکمرانی میں نمایاں طور پر جھلکتے ہیں۔ امیرالمومنین کی حیاتِ مبارکہ کا اجتماعی اور سیاسی پہلو، خصوصاً سیاستِ علوی، ایسا باب ہے جس کے گہرے مطالعے کی آج کے پیچیدہ اور بحرانی حالات میں شدید ضرورت ہے۔

آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ بحرانی حالات میں حضرت علی نے جس بصیرت، عدل اور تدبر کے ساتھ حکمرانی کی، وہ ایک منفرد اور جامع طرزِ جہاں بانی ہے جس سے آج بھی دنیا استفادہ کر رہی ہے۔ بالخصوص مالک اشتر کے نام آپ کا تاریخی عہدنامہ ریاستی نظم، عوامی حقوق، عدالتی انصاف اور حکمرانوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک مکمل دستور کی حیثیت رکھتا ہے، جس سے پاکستانی ریاست کو بھی عملی رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امیرالمومنین حضرت علی کا عدل و انصاف کا نظام انہیں دنیا کے تمام حکمرانوں سے ممتاز اور منفرد بناتا ہے۔ عدلِ علوی آج بھی دنیا میں ایک عملی ماڈل کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ آپ کے طرزِ حکمرانی اور اصولِ جہاں بانی کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں بھی بطور حوالہ شامل کیا گیا ہے۔ اسی موضوع پر معروف مسیحی دانشور جارج جرداق نے ’’انسانی عدالت کی آواز‘‘ کے عنوان سے ایک تاریخی کتاب تصنیف کی۔

سربراہ اسلامی تحریک نے کہا کہ حضرت علی نے عدل و انصاف کی اہمیت کو اس تسلسل اور استقامت کے ساتھ واضح کیا کہ عدل آپ کی ذات اور وجود کا حصہ بن گیا اور دنیا نے آپ کو عدل ہی کے ذریعے پہچانا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان نے زور دے کر کہا کہ حضرت علی کی حیاتِ طیبہ مسلمانانِ عالم کے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ صبر، تحمل، عمل اور استقامت کو اپنا کر آپ کی تعلیمات کی روشنی میں ایسے نظام کی تشکیل کے لیے کوشاں رہیں جو انسانیت کو فلاح اور نجات سے ہمکنار کر سکے۔

انہوں نے اپیل کی کہ مسلمانانِ عالم بالخصوص مسلمانانِ پاکستان جشنِ ولادتِ مولودِ کعبہ نہایت تزک و احتشام سے منائیں اور امیرالمومنین حضرت علی کے افکار و اقوال کی روشنی میں اتحاد، وحدت اور باہمی اخوت کا عملی مظاہرہ کریں۔