قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا عالمی یومِ مہاجرین پر پیغام

انسانی سرکشی، عدم مساوات اور ناانصافی نے کروڑوں افراد کو مہاجر بنا دیا،سربراہ اسلامی تحریک پاکستان علامہ ساجد نقوی

راولپنڈی / اسلام آباد (18 دسمبر 2025ء)سربراہ اسلامی تحریک قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا ہے کہ انسانی سرکشی، طغیانی، عدم مساوات اور ناانصافی کے باعث آج دنیا بھر میں کروڑوں افراد مہاجرین کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ انسان نے اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے انسانیت کو رسوا کیا اور اس کا نتیجہ دربدری، بے گھری اور بے بسی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

انہوں نے یکے بعد دیگرے عالمی یومِ مہاجرین اور ہجرت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ اگرچہ انسانیت کی فلاح، ہدایت اور ایک بہتر معاشرتی نظام کے قیام کے لیے نبوت و رسالتؑ نے ہر دور میں بھرپور کردار ادا کیا، تاہم اس کے باوجود حضور اکرم ﷺ سمیت انبیاء، اوصیاء اور بندگانِ خدا کو بھی ہجرت اور شدید مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا۔

سربراہ اسلامی تحریک قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 12 کروڑ سے زائد افراد جنگوں، مسلح تنازعات، ظلم و جبر اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اپنے گھروں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں، جو موجودہ عالمی نظام پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ آج اگر انسان مہاجر کے روپ میں کہیں مہاجر کیمپوں میں، کہیں دربدر اور کہیں بے یار و مددگار نظر آتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ انسان کے اندر موجود سرکشی اور شیطانی رویے ہیں، جو اسے عظمت کے مقام سے گرا کر ظلمت اور اندھیروں میں دھکیل دیتے ہیں۔ یہی رویے انسان کو نہ صرف خود گمراہ کرتے ہیں بلکہ پوری انسانیت پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غزہ، شام، لبنان، روہنگیا اور کشمیر میں ہونے والی سفاکیاں اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ نظام انسان کی جان، عزت اور آزادی کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے ہجرتِ نبوی ﷺ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رسول اکرم ﷺ نے انسانیت کے لیے ایسے رہنما اصول چھوڑے کہ اگر دنیا ان پر عمل پیرا ہوجاتی تو آج یہ دنیا حقیقی معنوں میں ایک مہذب اور منصفانہ معاشرہ بن چکی ہوتی، مگر افسوس کہ انسان نے جس نظام کو اپنایا وہ خود انسانیت کے لیے باعثِ شرمندگی بن گیا۔

انہوں نے کہا کہ جدید دنیا نے انسانی حرمت کے تحفظ کے لیے بے شمار قوانین، ضابطے اور بین الاقوامی ادارے قائم کیے، مگر اس کے باوجود انسانی سرکشی کا سدباب نہ ہوسکا، جو اس نظام کی بنیادی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی خرابی کے باعث انسانی وسائل سکڑتے چلے گئے، دائرۂ حیات محدود ہوا اور انسان کی آزادی پر مختلف پابندیاں عائد کردی گئیں۔

سربراہ اسلامی تحریک قائد ملت جعفریہ پاکستان  نے مزید کہا کہ ایک طرف لوگ ظلم و ستم کے باعث اپنے ہی آبائی علاقوں میں مہاجر بن جاتے ہیں اور دوسری جانب ناانصافی، عدم مساوات، بے روزگاری اور غربت انہیں غیر قانونی ہجرت پر مجبور کر دیتی ہے۔ ہر کچھ عرصے بعد پاکستان سمیت کئی ممالک کے بے یار و مددگار افراد کبھی سمندروں کی نذر ہوجاتے ہیں، کبھی ظالم انسانی اسمگلرز کے ہاتھوں اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں اور کبھی بیگار کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ان تمام مسائل کا حل صرف اور صرف نظام کی خرابیوں کو دور کرنے میں ہے۔