مجاہدین بدر نے قلت کے باوجود عزم و استقلال سے اسلام کا دفاع کیا، علامہ ساجد نقوی

مجاہدین بدر نے قلت کے باوجود عزم و استقلال سے اسلام کا دفاع کیا، علامہ ساجد نقوی

مجاہدین بدر نے قلّت کے باوجود عزم واستقلال سے اسلام کا دفاع کیا، علامہ ساجد نقوی

اسلام کے دفاع اوراسلام کواغیاراوردُشمن قوتوں کی سازشوں اورحملوں سے بچانے کےلئے اصحابِ بدر والا جذبہ پیدا کیاجائے، قائد ملت جعفریہ

اسلام کے پہلے معرکے میں جس طرح جرات و بہادری اور قربانی کی مثالیں رقم کی گئیں وہ اسلام کا اثاثہ اور سرمایہ ہیں

راولپنڈی/ اسلام آباد29اپریل2021 ء( جعفریہ پریس پاکستان) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے17رمضان المبارک فتح جنگ بدر کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کہا کہ مجاہدین بدر نے قلت کے باوجود عزم و استقلال سے اسلام کا دفاع اور اسلام دشمن قوتوں کا مقابلہ کیا ۔ قلت پر کثرت کا غلبہ پہلی مرتبہ غزوہ بدر میں دیکھنے کو ملا جس سے رہتی دنیا تک یہ سبق ملا کہ افراد کی قلت اور وسائل کی کمی کی وجہ سے پریشان نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایمان، اعتقاد، یقین اور سچے جذبے سے کام لیا جائے تو بڑی سے بڑی ظالم طاقت کو بھی شکست فاش دی جا سکتی ہے ۔ اسلام کے پہلے معرکے میں جس طرح جرات و بہادری اور قربانی کی مثالیں رقم کی گئیں وہ اسلام کا اثاثہ اور سرمایہ ہیں۔ محافظ رسالت حضرت علی علیہ السلام نے جس دلیری کے ساتھ سینہ سپر ہوکر کفّار اور دشمنوں کو شکست دی یہ جذبہ حریت پسند کے لیے نمونہ عمل ہے۔علامہ ساجد نقوی نے کہا غزوہ بدر توکّل بر خدا اور احکام اور پالیسیوں پر صدقِ دل سے عمل کرنے کا واضح عملی مظاہرہ ہے جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جس طرح اصحاب بدر نے بہت کم تعداد میں ہونے اور وسائل کی واضح کمی کے باوجود حکمِ رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی اور اپنے آپ کو قربانی کےلئے پیش کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی اور یقینِ قلب کے ساتھ شہادت قبول کرتے رہے اگر اِس دور میں بھی سچے جذبے اور کامل ایمان کے ساتھ دفاع کیا جائے اور دشمن قوتوں کی سازشوں اور حملوں سے بچانے کے لیے اصحاب بدر والا جذبہ پیدا کیا جائے تو کوئی طاقت بال بیکا نہیں کرسکتی۔قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے اتحاد بین المسلمین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اصحابِ بدر کی طرح کندھے سے کندھا ملا کر تمام مسلمانوں کو مشکلات کے حل میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے اگر کسی مسلمان کو دوسرے مسلمان کے مسائل کے حل میں دلچسپی نہیں ہے تو اُسے اپنے مسلمان ہونے پر غور کرنا چاہئے کیونکہ مُسلمان ایک اُمّت ہیں اور اُمّت کا اتحادوبقا ہر شے پر مقدّم ہے۔