سربراہ کاپیغام
ملک کے ذمہ دار‘ مہذب اور آئین و قانون پسند شہری کی حیثیت سے جہاں ”تحریک تشکیل پاکستان“ میں ہم اور ہمارے آباؤ اجداد نے سرگرم انداز میں حصہ لیا اسی طرح یہ بھی لازم و ناگزیر تھا کہ ”تعمیر پاکستان“ میں بھی اپنا مثبت‘ تعمیری اور فیصلہ کن رول ادا کیا جائے جس کے لئے ملک کی داخلی سیاست و جمہوری عمل میں وارد ہونا ضروری ٹھہرا۔
چنانچہ پہلے مختلف انداز میں مختلف فورمز کے ذریعہ ملکی ترقی‘ عوامی خوشحالی اور جمہوری اقدار کے فروغ کی خاطر جدوجہد کی گئی اور MRD اور PDA جیسے پلیٹ فارمز سے ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کیا گیا اور پھر 29جولائی 2002 ء میں ”اسلامی تحریک پاکستان“کی تاسیس ہوئی جس نے ایک مذہبی و سیاسی جماعت کی صورت پاکستان کی سیاست میں وارد ہوکر اعلی جمہوری اقدار کے فروغ کی جدوجہد کو اپنا شعار قرار دیا۔
اسلامی تحریک پاکستان کے اغراض و مقاصد اور نصب العین میں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر سطح پر اسلام کے عادلانہ نظام کی کوششیں‘ ملکی استحکام‘ ترقی‘ وقار و خوشحالی اور عوام کے بنیادی‘ انسانی‘ آئینی و قانونی اور شہری حقوق کا دفاع و تحفظ اولین ہدف و مقصد قرار پایا اسی طرح اسلامی اقدار کے فروغ اور سماجی برائیوں کے خاتمے‘ غیر اسلامی ثقافت کی نفی اور امر بالمعروف کے ذریعہ معاشرے اور ذرائع ابلاغ کی اصلاح جیسے اقدامات پیش نظر رہے ہیں۔ مزید برآں ملک کی تمام اقلیتوں کے جائز حقوق کا تحفظ اور تعلیمی و فلاحی اداروں کے قیام کی کوششیں شامل رہی ہیں۔
اسلامی تحریک پاکستان نے ہر دور میں ملک کی داخلی سلامتی و استحکام کو مقدم جانتے ہوئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ اوراتحاد بین المسلمین جیسے قرآنی و نبوی فریضے کو اپنا بنیادی اور اہم بیانیہ سمجھا جس کی عملی تصویر کبھی ”اعلامیہ وحدت“ کی صورت سامنے آئی ……کبھی نفاذ شریعت سفارشات ……کبھی اتحاد بین المسلمین کمیٹیوں حتی کہ پھر ملکی تاریخ کے پہلے باقاعدہ اور تمام مسلمہ مسالک و مکاتب کے مشترکہ فورم ”ملی یکجہتی کونسل“ کی تشکیل کی صورت میں سامنے آئی اور یہ فورم اس وقت بھی 28 کے قریب ملک کی معروف مذہبی و سیاسی جماعتوں کی شکل میں موجود ہے۔
اسی طرح برصغیر کے پہلے تنظیمی شکل میں وجود میں آنے والے ملک کی صف اول کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کے فورم ”متحدہ مجلس عمل“ کی بنیاد و تاسیس میں اساسی کردار ادا کرتے ہوئے ملکی و بین الاقوامی سیاست میں اپنا لوہا منوایاچنانچہ اس فورم کی تشکیل جیسے تاریخی اقدام اور خدمات کا اعتراف اسلامی دنیا نے بھی کیا۔
اسلامی تحریک پاکستان اپنی تاسیس پرالیکشن کمیشن آف پاکستان میں بطوردینی و سیاسی جماعت رجسٹرڈ ہوئی اور دوبارہ متحدہ مجلس عمل کے حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پھر بطور دینی و سیاسی جماعت رجسٹرڈ ہوئی۔ چنانچہ متحدہ مجلس عمل2002 ء کے قومی انتخابات میں نہ صرف دوسری بڑی سیاسی جماعت کے طور پر ملکی سیاست میں ابھری بلکہ وزارت عظمیٰ کے انتخاب میں بھی حصہ لیا۔
اس وقت چاروں صوبوں سمیت آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان میں اسلامی تحریک پاکستان ملکی سیاست میں اپنا مثبت اور تعمیری کردار بھرپور انداز میں ادا کررہی ہے بلکہ گلگت بلتستان میں دوسری بڑی سیاسی جماعت کے طور پر سیاسی و جمہوری عمل انجام دے رہی ہے اور اپنے نصب العین اور اغراض و مقاصد کی روشنی میں جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہوکر ملکی تعمیر و ترقی اور عو امی خوشحالی و خدمات کا سفرجاری رکھے ہوئے ہے۔





