اسلامی تحریک پاکستان کا تعارف و سیاسی سفر

وطن عزیز کی ماضی کی تاریخ‘ موجودہ حالات اور مستقبل کے چیلنجز کو سامنے رکھ کر اگرحقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو یہ ناقابل تردید حقیقت سامنے آتی ہے کہ ملک اور جمہوریت لازم و ملزوم ہیں۔ لہذا آئین کی بالادستی‘ ریاست میں بسنے والے عوام کے بنیادی انسانی و شہری حقوق کے تحفظ کے لئے سیاسی عمل اور جمہوری اقدار کا فروغ نہایت ضروری ہے۔
اگرچہ ملک کی تاریخ کئی نشیب و فراز سے بھری پڑی ہے۔ غیر سیاسی حکومتیں اور سیاسی ادوار دونوں کے ذریعہ ملک کی باگ ڈور ارباب اقتدار کے ہاتھ رہی تاہم بانی پاکستان کے ارشادات کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ ملک کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے۔ اگرچہ درجنوں چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں گذشتہ کئی دہائیوں سے ملکی سیاست میں اپنا کردار ادا کررہی ہیں تاہم اکیسیویں صدی کے آغاز پر ملک میں اسلام کے عادلانہ نظام کے قیام کے متمنی‘ محب وطن اور آئین و قانون کی بالادستی کے خواہاں ایک بڑے طبقے کی طرف سے یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ ایک دینی و سیاسی جماعت کا قیام عمل میں لاکر ملکی سیاست میں اپنا مثبت‘ تعمیری اور جمہوری رول ادا کیا جائے۔
چنانچہ 29جولائی2002 ء میں ”اسلامی تحریک پاکستان“ کے نام سے ایک دینی و سیاسی جماعت کی تاسیس ہوئی جو تھوڑے ہی عرصے میں چاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیر اور گلگت و بلتستان تک پھیل گئی۔ یہ جماعت اپنی تاسیس سے لے کر اب تک ملک میں جمہوریت کے تحفظ‘ جمہوری اقدار کے فروغ اور ملکی ترقی و عوامی خوشحالی کی خاطر اپنا کردار ادا کرنے میں شب و روز مصروف عمل ہے

سیاسی کردار

() اسلامی تحریک پاکستان ملک کے چاروں صوبوں بشمول آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان کی معروف‘ معتبر اور مستند سیاسی جماعت ہے۔
اسلامی تحریک پاکستان پولٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 ء کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں 2002 ء میں انفرادی حیثیت اور بعد ازاں برصغیر کی تاریخ کے سب سے بڑے دینی و سیاسی انتخابی اتحاد ”متحدہ مجلس عمل پاکستان“ میں شامل تمام مسالک کی نمائندہ بڑی دینی و سیاسی جماعتوں کے اتحاد کی شکل میں بھی رجسٹرڈ ہوئی
اسلامی تحریک پاکستان نے اکتوبر 2002 ء کے قومی انتخابات میں متحدہ مجلس عمل پاکستان (ایم ایم اے) کے پلیٹ فارم سے ”کتاب“ کے انتخابی نشان پر حصہ لیا۔چنانچہ ایم ایم اے قومی اسمبلی اور سینٹ میں دوسری بڑی پارلیمانی جماعت اور صوبہ خیبرپختونخواہ میں حکومت جبکہ صوبہ بلوچستان میں مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی اسی طرح صوبہ سندھ میں بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل کی۔جبکہ متحدہ مجلس عمل نے وزیر اعظم کے انتخاب میں حصہ لیا
اسلامی تحریک پاکستان 2003 ء سے 2008 ء تک انفرادی اور متحدہ مجلس عمل کی شکل میں الیکشن کمیشن آف پاکستان میں آئینی و قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے سال بہ سال اپنی رجسٹریشن کی تجدید کراتی رہی ہے۔اس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے سال بہ سال جاری ہونی والی سیاسی جماعتوں کی لسٹ میں اسلامی تحریک پاکستان کا نام بدستور شامل رہا۔
قومی انتخابات 2008 ء میں بھی اسلامی تحریک پاکستان نے متحدہ مجلس عمل پاکستان کے پلیٹ فارم سے ”کتاب“ کے انتخابی نشان پرحصہ لیا۔
2008 ء کے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل پاکستان کی سربراہی اسلامی تحریک پاکستان کے پاس تھی جس کی وجہ سے ملک بھر میں ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں کو جاری کئے جانے والے انتخابی ٹکٹس بھی متحدہ مجلس عمل اور اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کے دستخطوں سے جاری ہوئے۔
2008 ء کے انتخابات کے انتخابی نتائج کے مطابق ایم ایم اے نے قومی اسمبلی اور صوبہ خیبرپختونخواہ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا کردار ادا کیا جبکہ بلوچستان اسمبلی میں مخلوط حکومت میں شامل رہی۔اسی طرح صوبائی اسمبلی سندھ اور سینٹ آف پاکستان میں بھی موثر اور خاطر خواہ نمائندگی حاصل کی۔
2009 ء سے 2013 ء تک اسلامی تحریک پاکستان الیکشن کمیشن آف پاکستان میں آئینی و قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے حسب سابق سال بہ سال اپنی رجسٹریشن کی تجدید کراتی رہی ہے۔اس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے سال بہ سال جاری ہونی والی سیاسی جماعتوں کی لسٹ میں اسلامی تحریک پاکستان کا نام بدستور شامل رہا۔
2013 ء کے عام انتخابات میں اسلامی تحریک پاکستان نے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں انتخابی نشان کے لئے درخواست گزاری جس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے باقاعدہ طور پر اسلامی تحریک پاکستان کو ”تالہ چابی“ کا انتخابی نشان الاٹ کیا۔
2013 ء کے قومی انتخابات میں ملک کی معروف سیاسی جماعت پاکستان ”پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین“ سے باہمی انتخابی تعاون طے کیا اور ”تیر“ کے انتخابی نشان پر الیکشن میں حصہ لیا اور گلگت بلتستان حکومت میں بھی شامل ہوئے۔
اسلامی تحریک پاکستان نے 2014 میں بھی الیکشن کمیشن آف پاکستان میں آئینی و قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے حسب سابق اپنی رجسٹریشن کی تجدید کرائی۔ جس کے نتیجے میں تاہنوز الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے سال بہ سال جاری ہونی والی سیاسی جماعتوں کی لسٹ میں اسلامی تحریک پاکستان کا نام بدستور شامل ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی لسٹ میں اسلامی تحریک پاکستان سلسلہ وار نمبر 53 پر موجود ہے جس کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کیآفیشل ویب سائٹ پر رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی فہرست میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
() اس وقت بھی گلگت بلتستان میں اسلامی تحریک دوسری بڑی سیاسی جماعت کے طور پر سیاسی عمل میں پیش پیش ہے۔